عجز و انکساری – مصباح العرفان

میرے مرشدِ کریم‘ سخیٔ کاملؒ مجھے بتایا کرتے کہ سرکارِ عالیؒ فقر کے شہنشاہ تھے اور محبوبِ ذات کے درجے پر فائز تھے۔ یہ ولایت کے اعلی ترین مراتب ہیں جن پر خال خال گنے چنے لوگ ہی پہنچتے ہیں۔ لیکن اتنے اعلی ترین مناصب رکھنے کے باوجود آپؒ پر تکبر و غرور کی بجائے انتہا درجے کی عاجزی و انکساری تھی۔ سخیٔ کاملؒ نے مجھے فرمایا کہ عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی کو معمولی سے روشنی دکھائی دے یا کسی مرید کو اس کا مرشد دو چار بار مسکرا کر بلا لے تو اس کا سر آسمان سے باتیں کرنے لگتا ہے اور دوسرے سب لوگ اسے حقیر نظر آنے لگتے ہیں۔ لیکن قربان جائیں سرکارِ عالیؒ پر کہ جس قدر مراتب بلند ہوتے گئے‘ آپؒ اسی قدر عاجزی اختیار کرتے چلے گئے‘ جس طرح کہ کسی درخت کو جیسے جیسے پھل لگتا چلا جاتا ہے، اسی قدر وہ جھکتا چلا جاتا ہے۔ سرکا رِ عالیؒ کا عجز بیان کرتے ہوئے مجھ سے سخیٔ کاملؒ نے فرمایا کہ عالی سرکارؒ نے کبھی تکبر یا گھمنڈ نہ کیا اور نہ ہی بڑا بول بولا۔ اپنی تعریف سننا قطعاً گوارا نہ فرماتے۔ اگر کوئی آپؒ کی تعریف بیان کرتا تو فوراً منع کر دیتے اور فرماتے کہ اللہ کی تعریف کرو جو سب تعریفوں کا مالک ہے۔ اس عاجزی اور انکساری کی اعلیٰ ترین مثال یہ ہے کہ آپؒ ولایت اور فقر کے اعلیٰ ترین مناصب پر فائز تھے لیکن غریبوں‘ یتیموں اور مسکینوں سے بے حد پیار کرتے؛ ان کی ظاہری و باطنی‘ ہر طرح کی‘ امداد فرماتے؛ ہمیشہ زمین پر مسند لگا کر عام لوگوں میں بیٹھتے؛ اور کبھی اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کوشش نہ کرتے۔ اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ آپؒ نے حمدیہ اور عارفانہ کلام لکھا، عشقِ مصطفیٰ میں ڈوب کر نبیٔ رحمتﷺ کے حضور نعتیہ نذرانہ پیش کیا، حضرت مولا علیؑ مشکل کشا اور سرکار غوثِ اعظم قدس سرہٗ العزیز کے حضور منقبتیں بھی تحریر کیں‘ لیکن اپنے لئے تخلص عاجزؔ  پسند فرمایا۔

Advertisements
شائع کردہ از محبوبِ ذات, مصباح العرفان, سیّد مبارک علی گیلانی | ٹیگ شدہ , , , , , , , , , , , , , , , | تبصرہ کریں

حُسنِ سلوک – مصباح العرفان

میرے مرشدِ کریم‘ سخیٔ کاملؒ نے مجھے بتایا کہ سرکارِ عالیؒ کے اوصافِ حسنہ میں یہ بات بھی نہایت نمایاں طور پر موجود تھی کہ آپ اپنے اہلِ خانہ‘ عزیز و اقارب‘ مریدین اور سائلین حضرات‘ سب کے ساتھ نہایت احسن سلوک کا مظاہرہ کرتے۔ اندرونِ خانہ بھی سب کے ساتھ آپ کا برتاؤ نہایت منصفانہ تھا۔ گھر کی خواتین کی بھی بہت عزت کرتے؛ نہایت مناسب الفاظ میں انہیں مخاطب کرتے۔ میں اور بھائی شاہ کمال چھوٹے بچے تھے۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ دادا حضورؒ نے ہمیشہ ہم کو شفقت و محبت کی نظر سے ہی دیکھا۔ آپؒ ہمارا ہر طرح سے خیال رکھتے۔ ہماری شرارتوں پر بھی ہمیں کبھی جھڑکتے نہیں تھے بلکہ تبسم فرما کر شفقت کرتے۔ اسی طرح آپؒ اپنے عزیز و اقارب کا بھی خیال رکھتے اور ان کو حفظِ مراتب کے مطابق پروٹوکول دیتے‘ لطف و کرم سے نوازتے۔ سخیٔ کاملؒ نے مجھے بتایا کہ بُردباری‘ عفو و درگزر‘ سرکارِ عالیؒ کے اوصافِ حسنہ کا روشن باب ہیں۔ مریدین کو دوست کہہ کر پکارتے؛ انہیں اپنی اولاد سے بڑھ کر نوازتے؛ فرماتے مریدین ہماری اولاد ہیں۔ مریدین کی کسی کوتاہی یا غلطی پر ہمیشہ درگزر فرماتے۔ آپؒ کے بعض خلفاء حضرات نے مجھے بتایا کہ بعض مریدین سے سنگین قسم کی غلطیاں ہو جاتیں‘ مثلاً وہ آپس میں لڑ پڑتے یا ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہتے‘ بعض سے قیمتی برتن ٹوٹ جاتے یا گم ہو جاتے‘ تو آپؒ ہمیشہ شفقت کا مظاہرہ کرتے۔ کبھی کسی پر ناراض ہوتے یا سرزنش کرتے آپؒ کو دیکھا نہ گیا۔ وہ خلق کے لئے سراپا راحت ہی راحت تھے۔

شائع کردہ از محبوبِ ذات, مصباح العرفان, سیّد مبارک علی گیلانی | ٹیگ شدہ , , , , , , , , , , , , , , , | تبصرہ کریں

گفتگو – مصباح العرفان

آپؒ کا اندازِ گفتگو من موہنا، کریمانہ‘ دلبرانہ اور ناصحانہ تھا۔ کبھی کسی کو طعن و تشنیع یا طنز کا نشانہ بناتے۔ آپؒ کو نہ دیکھا گیا۔ آپؒ ہر ایک کو ’’سوہنیا‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے۔ جو کوئی ایک بار مل لیتا، پھر وہ ساری زندگی آپؒ کو فراموش نہ کر سکتا۔ آپؒ اپنے اَخلاق سے ہر آنے والے کو اپنا ایسا گرویدہ بنا لیتے کہ وہ آپؒ کی غلامی اختیار کرنے میں فخر محسوس کرتا۔ آپؒ نے اپنے اس میٹھے اور مدنی اخلاق سے ہزاروں بے دینوں کو دینِ اسلام پر گامزن کیا، بے شمار بد عقیدہ  لوگوں کے عقائد کو درست کیا اور بے شمار راہِ گم کردہ افراد کو صراطِ مستقیم پر گامزن کیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

شائع کردہ از محبوبِ ذات, مصباح العرفان, سیّد مبارک علی گیلانی | ٹیگ شدہ , , , , , , , , , , , , , , , | تبصرہ کریں

مدنی اَخلاق – مصباح العرفان

باب دوم

خوشبوئے کردار

 

{مدنی اَخلاق}

پڑھنا جاری رکھیں

شائع کردہ از محبوبِ ذات, مصباح العرفان, سیّد مبارک علی گیلانی | ٹیگ شدہ , , , , , , , , , , , , , , , | تبصرہ کریں

انسانِ کامل – بے نشاں کا نشاں – مصباح العرفان

سخیٔ کامل‘ مرشدِ دوراں، عکسِ محبوبِ ذاتؒ، سجادہ نشین آستانہ عالیہ قادریہ احمد حسینیہ‘ سیّد افضال احمد حسینؒ نے سرکارِ عالیؒ کے وصال پُر ملال پر انہیں اس طرح خراجِ تحسین پیش کیا:

انسانِ کامل  ۔  بے نشاں کا نشاں

پڑھنا جاری رکھیں

شائع کردہ از ملفوظاتِ محبوبِ ذات, محبوبِ ذات, مصباح العرفان, سیّد مبارک علی گیلانی, سخیٔ کامل | ٹیگ شدہ , , , , , , , , , , , , , , , | تبصرہ کریں

وصالِ شریف کے بعد خراجِ تحسین

سرکارِ عالیؒ کے وصالِ شریف کے بعد پاکستان بھر کی ہر قابلِ ذکر ہستی نے آپؒ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ کسی شخصیت کے وصال پر ملنے والے‘ متعلقین یا فیض یافتہ لوگ تو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں لیکن خاندان والے یا عزیز و اقارب کم ہی تعریف کرتے ہیں۔ وہ رفتگان کی معمولی معمولی فروگزاشتوں کو کرید کرید کر سامنے کر دیتے ہیں۔ لیکن کردار کی عظمت تو یہی ہے کہ عزیز و اقارب بھی بول اٹھیں: مرحبا مرحبا، کیا فرشتہ خصلت انسان تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

شائع کردہ از محبوبِ ذات, مصباح العرفان, سیّد مبارک علی گیلانی | ٹیگ شدہ , , , , , , , , , , , , , , , | تبصرہ کریں

وصال شریف – مصباح العرفان

میری عمر اس وقت گیارہ بارہ سال تھی اور میں نے سرکارِ عالیؒ کے وصال و تدفین کا پورا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح سارا خاندان غمناک تھا۔ لوگ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ مخلوقِ خدا آپؒ کی آخری بار زیارت کے لیے جوق در جوق اُمڈی چلی آرہی تھی۔ آپؒ کی نمازِ جنازہ کے وقت بڑے رقت انگیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ لوگ آنکھوں میں آنسو لئے جنازہ کو کندھا دینے کے لیے بے تابانہ آگے بڑھ رہے تھے۔ کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جو اشکبار نہ ہو۔ لوگ ایک دوسرے کے گلے لگ کر یوں رو رہے تھے جیسے نہ جانے کتنی پیاری شخصیت ان سے الگ ہو رہی ہو۔ پھر جب آپؒ کے جسدِ مبارک کو لحد میں اتارا جانے لگا  تو آہوں اور سسکیوں کا شور ایک بار پھر بلند ہوا۔ یہ سارے مناظر آج تک میرے حافظے کی اسکرین پر موجود ہیں۔ جب کبھی تنہائی ان مناظر کو دہراتی ہے تو میرا دامن آنسوؤں سے بھیگ جاتا ہے اور دل انتہائی اداس ہو جاتاہے۔

آپ کا عرس مبارک منڈیر سیّداں شریف میں ہر سال 21 شعبان المعظم کوب ڑی شان و شوکت سے منایا جاتا ہے۔

شائع کردہ از محبوبِ ذات, مصباح العرفان, سیّد مبارک علی گیلانی | ٹیگ شدہ , , , , , , , , , , , , , , , | تبصرہ کریں