گفتگو – مصباح العرفان

آپؒ کا اندازِ گفتگو من موہنا، کریمانہ‘ دلبرانہ اور ناصحانہ تھا۔ کبھی کسی کو طعن و تشنیع یا طنز کا نشانہ بناتے۔ آپؒ کو نہ دیکھا گیا۔ آپؒ ہر ایک کو ’’سوہنیا‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے۔ جو کوئی ایک بار مل لیتا، پھر وہ ساری زندگی آپؒ کو فراموش نہ کر سکتا۔ آپؒ اپنے اَخلاق سے ہر آنے والے کو اپنا ایسا گرویدہ بنا لیتے کہ وہ آپؒ کی غلامی اختیار کرنے میں فخر محسوس کرتا۔ آپؒ نے اپنے اس میٹھے اور مدنی اخلاق سے ہزاروں بے دینوں کو دینِ اسلام پر گامزن کیا، بے شمار بد عقیدہ  لوگوں کے عقائد کو درست کیا اور بے شمار راہِ گم کردہ افراد کو صراطِ مستقیم پر گامزن کیا۔

سخیٔ کاملؒ نے مجھے فرمایا کہ یہ سرکارِ عالیؒ کے مدنی اخلاق کا ظاہری پہلو تھا لیکن اِس کا ایک باطنی پہلو بھی تھا۔ آپؒ کے اوصافِ حسنہ میں یہ بات بھی شامل تھی کہ ہر آنے والے مہمان پر ظاہری حُسنِ سلوک کے علاوہ باطنی کرم کے دروازے بھی کھول دیے جاتے۔ بلا امتیازِ مرید و غیرِ مرید‘ ہر ایک کی باطنی داد رسی کی جاتی۔ مجھے سخیٔ کاملؒ نے بتایا کہ بعض لوگ، جن کی منازل رُکی ہوتیں یا اپنی غلطیوں کی وجہ سے اپنے مقامات سے گرچکے ہوتے‘ وہ سرکارِ عالیؒ کی زیارت سے مشرف باد ہوتے تو اپنے مقامات پر بحال ہو جاتے اور ان کی رُکی ہوئی منازل دوبارہ مائل بہ پرواز ہو جاتیں۔

Advertisements
This entry was posted in محبوبِ ذات, مصباح العرفان, سیّد مبارک علی گیلانی and tagged , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

اپنی رائے نیچے بنے ڈبے میں درج کر کے ہم تک پہنچائیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s