منڈیر کی کیا بات ہے – مصباح العرفان

منڈیر کی کیا بات ہے

منڈیر کی کیا بات ہے

منڈیر کی کیا بات ہے

حل کیوں نہ ہوں میری مشکلیں

میرا آقا محبوبِ ذاتؒ ہے

منڈیر کی کیا بات ہے

کافی پھرا میں در بدر

اب مل گیا ہے تیرا در

کرو سب پہ رحمت کی نظر

تُو منبعِ برکات ہے

منڈیر کی کیا بات ہے

 

کہاں پھر رہے ہو ڈھونڈتے

محبوب ہیں یہ ذات کے

اس در پہ آؤ سائلو

یہاں بٹ رہی خیرات ہے

منڈیر کی کیا بات ہے

 

لکھوں شان کیا میں منڈیر کی

عادت نہیں یہاں دیر کی

ہر روز یہاں روزِ عید ہے

شبِ قدر ہر اِک رات ہے

منڈیر کی کیا بات ہے

 

مہربانؒ کا جب نام لوں

مل جائے دل کو اِک سکوں

ہو جاتی اِن کے نام سے

انوار کی برسات ہے

منڈیر کی کیا بات ہے

 

نظر کرم کرتے ہیں جو

میرے سامنے بیٹھے ہیں وہ

سرکار کے صدقے سے ہی

یہ سج رہی بارات ہے

منڈیر کی کیا بات ہے

 

دلدار ہیں وہ سامنے

غم خوار ہیں وہ سامنے

گرتے ہوؤں کو تھام لیں

ان کے کرم کی بات ہے

منڈیر کی کیا بات ہے

 

آئیں جو حاذقؔ پُر خطا

لیتے ہیں  قدموں سے لگا

جرم و خطا کو بخشنا

یہ منڈیر کی سوغات ہے

منڈیر کی کیا بات ہے

 

کلام:

خلیفہ محمد صلاح الدین حاذقؔ، فیصل آباد

Advertisements
This entry was posted in محبوبِ ذات, مصباح العرفان, سیّد مبارک علی گیلانی and tagged , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

اپنی رائے نیچے بنے ڈبے میں درج کر کے ہم تک پہنچائیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s