نائبِ خدا – ملفوظاتِ محبوبِ ذات

ایک مرتبہ جبل پور میں مصنوعی جنگ شروع ہو گئی۔ اس کو فوج میں اپریشن کہتے ہیں۔ فوج دو حصوں میں تقسیم ہو کر جنگل میں روپوش ہو گئی۔ اب ایک حصے نے اپنے دشمن یعنی دوسرے حصہ پر موقع پا کر حملہ کرنا تھا۔ ایک شب ایک حصے نے شب خون مارا یعنی حملہ کیا۔ اس موقع پر بلیک آئوٹ ہو گیا۔ کرنل‘ جو راشن کا انچارج تھا، گھبرایا ہوا رات کے وقت آپ کے پاس آیا اور بولا کہ جناب منیجر صاحب! راشن ختم ہے‘ جنگ شروع ہو گئی ہے‘ میں فوج کو ناشتہ اور کھانا کیسے دوں گا؟ میری اس کوتاہی پر مجھے تو نوکری سے نکال دیا جائے گا۔ حضرت محبوبِ ذات قدس سرہٗ العزیز کو اس کی شدید گھبراہٹ اور پریشانی پر ترس آ گیا اور فرمایا کوئی بات نہیں‘ شہر سے راشن لے آتے ہیں۔ کرنل نے کہا حضور جنگ جاری ہے‘ بلیک آئوٹ ہے‘ اندھیرے میں گاڑی کیسے چلے گی؟ آپ نے کہا کہ گاڑی ہم خود چلائیں گے۔ آپ نے گاڑی ساٹھ میل کی رفتار سے اندھیرے میں چلائی۔ کرنل خوف کے مارے آنکھیں بند کر کے آپ کے ساتھ بیٹھا رہا۔ شہر گئے‘ راشن لیا اور اسی طرح واپس تشریف لے آئے۔ کرنل صاحب نے پوچھا کہ جناب منیجر صاحب! یہ سب کچھ کیسے ہو گیا؟ اندھیرے اور پہاڑی علاقے میں اتنی سپیڈ سے آپ نے گاڑی چلائی‘ جو کسی طرح ممکن نہ تھا۔ اس پر کرنل نے خود ہی ریمارکس دیئے کہ آپ خدا (God) کے نائب ہیں۔

Advertisements
This entry was posted in ملفوظاتِ محبوبِ ذات, محبوبِ ذات and tagged , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

اپنی رائے نیچے بنے ڈبے میں درج کر کے ہم تک پہنچائیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s