کافی شاپ لٹا دی – ملفوظاتِ محبوبِ ذات

چلہ کشی کا دور مکمل کرنے کے بعد آپ نے شیخ عبد الرحمان فضل کریم ملٹری کنٹریکٹر کے ہاں بطورِ جنرل منیجر کافی شاپ پر ملازمت اختیار کر لی۔ ان دنوں آپ پر زیادہ تر جذب کی کیفیت طاری رہتی۔ اس جذبۂ عشق کے تحت آپ نے کافی شاپ لٹا دی۔ تین دن تک گورے کافی شاپ لوٹتے رہے‘ اس کے بعد آپ نے لنگر جاری کر دیا۔ تین روز تک مسلسل گورے کھانوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ شیخ برادرز پہنچے تو بڑے سٹ پٹائے اور واویلا کیا۔ اس پر آپ نے فرمایا: ’’ہم نے اللہ کا مال لٹایا ہے‘ تم اپنا سامان پورا کر لو‘‘۔ چیکنگ پر تمام سامان سٹاک رجسٹر کے مطابق دوکان میں موجود پایا گیا۔ ایک سگریٹ تک کم نہ نکلا۔ اس کرامت کے ظاہر ہونے پر آپ نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ آپ اپر باڑیاں چاؤنی کی مسجد میں تشریف لے آئے۔ وہاں اس علاقے کے ایک بزرگ‘ فقیر اللہ صاحب بھی آ گئے۔ انہوں نے طنزاً کہا کہ شاہ صاحب! پرایا مال اس طرح نہیں لٹایا کرتے۔ چونکہ یہ بزرگ محض بزرگ تھے‘ صاحبِ نظر نہ تھے۔ آپ نے جب اس کی بات سنی تو رقت طاری ہو گئی۔ آپ نے زور دار نعرہ بلند کیا جس سے مسجد کے محراب کی دیوار میں شگاف پڑ گیا۔ مسجد کی چھت سے کڑ کڑ کی آواز سن کر فقیر اللہ صاحب باہر کو بھاگے۔ آپ سرکار نے ان کا ہاتھ پکڑ کر پاس بٹھا لیا اور فرمایا، جان اتنی پیاری ہے کہ خوف سے باہر بھاگ رہے ہو؟ جاؤ ظاہر اور باطن میں فرق کرنا سیکھو۔ تحقیق کے بغیر کوئی الزام دینا، گمان کرنا، گناہ ہے۔ یہ سن کر فقیر اللہ صاحب رخصت ہو گئے۔ فقیر اللہ‘ صاحبِ حال نہ تھے اور حضورِ پاک قدس سرہٗ العزیز کی باطنی پرواز کا اندازہ نہ کر سکے۔ راقم الحروف نے باڑیاں جا کر مسجد کے محراب میں وہ شگاف بہ چشمِ خود دیکھا ہے‘ جو اب بھی ’’نعرۂ محبوبِ ذات‘‘ کی گواہی دے رہا ہے۔

Advertisements
This entry was posted in ملفوظاتِ محبوبِ ذات, محبوبِ ذات and tagged , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

اپنی رائے نیچے بنے ڈبے میں درج کر کے ہم تک پہنچائیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s