نفاستِ ذات – ملفوظاتِ محبوبِ ذات

حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز نے بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک واقعہ اس طرح بیان فرمایا کہ ایک شب حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ عشاء کی نماز کے لیے مسجد میں داخل ہو رہے تھے۔ ابھی ایک قدم اندر رکھا تھا کہ ہاتف ِ غیب کی آواز آئی کہ بایزید! ہمارے گھر میں کس وضو کے ساتھ آ رہے ہو؟ آپ نے خیال کیا غالباً وضو میں کوئی نقص رہ گیا ہے۔ واپسی کا ارادہ کیا تو آواز آئی میرے گھر سے واپس جا رہے ہو؟ جس کا آپ پر اتنا اثر ہوا کہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے۔ رات بھر لوگ آپ کو لتاڑتے ہوئے اوپر سے گذرتے رہے۔کسی کو خبر نہ ہو سکی کہ نیچے گرا ہوا انسانی وجود ہے اور وہ بھی حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا، جو اس وقت بہت بڑے بزرگ سمجھے جاتے تھے۔ رات بھر لوگوں کی ٹھوکریں کھاتے رہے۔ صبح ارشاد ہوا: جاؤ! اس مرتبہ معاف کیا۔ آئندہ احتیاط کرنا۔ یہ ہے نفاست۔

Advertisements
This entry was posted in ملفوظاتِ محبوبِ ذات, محبوبِ ذات and tagged , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

اپنی رائے نیچے بنے ڈبے میں درج کر کے ہم تک پہنچائیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s