یقینِ محکم – ملفوظاتِ محبوبِ ذات

یقینِ محکم کے لئے ایک چرواہے کی مثال بیان فرمائی۔ اس چرواہے کو جنگل میں پیاس کی شدت نے تنگ کیا۔ اس نے ایک کنویں میں پانی دیکھنے کے لئے جھانکا تو دیکھا کہ ایک مرد اُلٹا لٹک رہا ہے۔ چرواہے نے اُلٹا لٹکنے کا سبب دریافت کیا تو مرد نے جواباً کہا کہ اس نے خدا کا قرب حاصل کرنے کے لئے یہ طریقہ اپنایا ہے۔ چرواہے کو یقین ہو گیا کہ یہ بہت آسان طریقہ ہے‘ پہلے یہی عمل کر لوں‘ پانی بعد میں پی لوں گا۔ پاس ہی بیری کا درخت تھا اس پر آکاس بیل چھائی ہوئی تھی۔ وہ بیری پر چڑھ کر آکاس بیل اتارنے میں لہو لہان ہو گیا کیونکہ بیری کے درخت میں کانٹے نوک دار ہوتے ہیں۔ اس نے رب کو حاصل کرنے کے لئے زخموں پر کوئی دھیان نہ دیا۔ آکاس بیل کچی ہوتی ہے‘ پھر بھی وہ اس سے رسا بنا کر اس درخت پر چڑھ گیا۔ آکاس بیل کے رسے کا ایک سرا درخت کے ٹہنے کے ساتھ باندھا اور دوسرا سرا اپنی ٹانگوں سے باندھ کر نیچے لٹک گیا۔ رسے میں کوئی جان نہ تھی مگر لٹکنے والا کامل یقین کا حامل تھا۔ وہ خدا کا قرب چاہتا تھا۔ بیل کا رسا ٹوٹ گیا۔ وہ گرا لیکن بیشتر اس کے کہ اس کا سر زمین سے ٹکراتا، اللہ تعالیٰ نے باطن کھول دیا۔ یہ یقینِ محکم ہے۔

Advertisements
This entry was posted in ملفوظاتِ محبوبِ ذات, محبوبِ ذات and tagged , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

اپنی رائے نیچے بنے ڈبے میں درج کر کے ہم تک پہنچائیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s