مدارات – ملفوظاتِ محبوبِ ذات

حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز مریدین کے خطوط کا جواب بذاتِ خود دیتے۔ ان خطوط میں مریدین کے سوالات کے جوابات کے علاوہ تصوف کے دقیق مسائل سے بھی مریدین کو آگاہ فرماتے۔ بسا اوقات ان کی باطنی اصلاح فرماتے۔ شیطانی وسوسوں سے آگاہ فرماتے۔ ان کی تشریح کر کے بچاؤ کے طریقے بتاتے یہ کہ ہر مرید کے لئے لازمی ہے کہ وہ خطراتِ شیطانی سے آگاہ ہو اور خطرات وارد ہونے کی صورت میں حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کر کے اپنا ایمان بچا سکے۔ اگر بچاؤ کا طریقہ معلوم نہ ہو گا تو عین ممکن ہے کہ مرید اپنا ایمان ضائع کر بیٹھے۔ خطرات کی تشریح اس طرح فرمائی کہ شیطانی خطرات شریعت کی کسوٹی پر پرکھنے سے معلوم ہو سکتے ہیں۔ یہ قانونِ شریعت کے خلاف ہوتے ہیں۔ لا حول ولا قوت الا بالله العلي العظيم پڑھنے سے شیطانی خطرات ٹل جائیں گے۔

دوسرا یہ کہ رحمانی برکات کا طالب رہے اور بارگاہِ خداوند میں سربسجود ہو کر پناہ طلب کرے‘ خطرات ٹل جائیں گے۔ اس سلسلہ میں حضور غوث الثقلین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے سامنے زمین سے کافی اونچی سطح پر ایک قمقمئہ نور ظاہر ہوا اور اس میں سے آواز آئی کہ عبدالقادر ہم نے آپ کو نماز معاف فرمائی۔ آپ کی روح بہت بیدار تھی۔ آپ فوراً بھانپ گئے نماز کی معافی میرے نانا حضرت ﷴ کو ہوتی‘ میں تو حضور نبی کریم ﷺ کا غلام ہوں‘ مجھے نماز معاف کیوں کی جا رہی ہے؟ یہ یقیناً کوئی شیطانی کاروائی ہے۔ آپ نے لا حول ولا قوت الا بالله پڑھا تو وہ نور کا ٹکڑا پاش پاش ہو کر زمین پر گر پڑا۔ پھر لعین بزرگی کا لبادا پہن کر حاضر ہوا اور آپ کی علمیت اور فضیلت کی تعریف شروع کر دی تاکہ ان کا نفس تعریف سن کر متکبر ہو جائے۔ حضور غوث الثقلین نے پھر لا حول ولا قوت الا بالله پڑھا تو لعین دور بھاگ گیا۔

سیّد احمد نامی ایک بزرگ ہندوستان میں تھے۔ وہ مراقبے میں بیٹھے تھے کہ غیب سے آواز آئی کہ "احمد ہم نے تمہیں رسول بنایا۔” آپ کی روح کا ضمیر بہت بیدار تھا، فوراً بھانپ گئے کہ میرے نانا پر نبوت ختم ہو گئی‘ مجھے کس قانون کے تحت رسول بنایا جا رہا ہے؟ یہ یقیناً شیطانی وسوسہ ہے۔ آپ کے ضمیر نے سر بسجود ہو کر پناہ طلب کی تو ارشاد ہوا کہ جاؤ ہم نے آپ کو معشوق کیا۔ دن نکلنے پر جب گھر سے باہر نکلے تو جو شخص آپ کو سب سے پہلے ملا اس نے احمد معشوق خطاب کر کے آپ سے گفتگو کی ابتداء کی۔ پھر ہر شخص کی زبان پر احمد  کا نام احمد معشوق ہو گیا۔ آپ نے سجدۂ شکر ادا کیا کہ ایمان بچ گیا۔ اگر روح بیدار نہ ہوتی تو صدائے شیطانی پر لبیک کہہ کر مرتد ہو جاتے۔ بندہ اگر بندئہ خدا ہو جائے تو وہ اپنے بندے کی ہر منزل پر محافظت اور راہنمائی فرماتا ہے۔

Advertisements
This entry was posted in ملفوظاتِ محبوبِ ذات, محبوبِ ذات and tagged , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

اپنی رائے نیچے بنے ڈبے میں درج کر کے ہم تک پہنچائیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s