تبلیغ کا انوکھا انداز – ملفوظاتِ محبوبِ ذات

تبلیغ کا انوکھا انداز

 

راقم الحروف نے تمام زندگی آپ کو چار پائی پر بستر لگا کر سوتے نہیں دیکھا۔ آپ سرکار نے ریاضت‘ عبادت‘ شب بیداری اور صوم و صلوٰۃ میں مثالی نشان قائم کئے۔ بیماری کی حالت میں کبھی دوا استعمال نہیں کی۔ ہمیشہ توکل پر بھروسہ کیا۔ صبح معمولی سا ناشتہ کرنے کے بعد آپ اپنی عبادت گاہ میں تخت پر ایک گھنٹے کے لئے استراحت فرمانے کے بعد اٹھ کر وضو فرماتے۔ چائے کی ایک پیالی نوشِ جاں فرماتے۔ پھر باہر مریدوں کے جھرمٹ میں تشریف لے آتے۔ تمام دن وعظ فرماتے‘ مریدوں کو رشد و ہدایت سے نوازتے‘ اپنی نگاہِ کرم سے ان کی باطنی راہنمائی فرماتے۔ ہر ایک کی التجا سن کر ان کی مراد پوری فرماتے۔ قبل دوپہر عام لوگوں کے لئے دعا فرماتے بلکہ ہر شخص کے لئے فرداً فرداً دعا فرماتے۔ دعا کے بعد جب سائل کی تسلی ہو جاتی تو اس کو جانے کی اجازت مرحمت فرماتے۔ تاکید کرتے کہ نماز پابندی سے ادا کرتے رہنا۔ اگر کوتاہی یا غفلت کرو گے تو تمہاری بیماری تمہیں دوبارہ پکڑ لے گی۔ یہ خوف اس لئے دلاتے کہ دعا کرانے والا شخص پابند ِ صلوٰۃ ہو جائے۔ اس طرح آپ سرکارِ عالی نے لاکھوں بندگانِ خدا کو نماز کا پابند بنا دیا۔ تبلیغ کا یہ انوکھا انداز تھا۔

Advertisements
This entry was posted in ملفوظاتِ محبوبِ ذات, محبوبِ ذات and tagged , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

اپنی رائے نیچے بنے ڈبے میں درج کر کے ہم تک پہنچائیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s