سیّاحی اور تبلیغِ دین – ملفوظاتِ محبوبِ ذات

باب سوئم  (3)

سیاحت، تبلیغ اور
معمولات

سیّاحی اور تبلیغِ دین

 

حضور پاک رحمۃ اللہ علیہ نے ملازمت سے فراغت پا کر پہاڑوں کا رُخ کر لیا۔ آپ نے کوہِ مری سے نینی تال (انڈیا) تک پہاڑی سفر نو ماہ میں طے کیا۔ آپ پہاڑ کی چوٹی سے اتر کر پہاڑوں کے دامن میں واقع گھرانوں اور گاؤں والوں کو اکٹھا کر کے تمام وقت دینِ حق کی تعلیم دیتے اور انہیں نماز اور روزہ کے فوائد سے آگاہ فرماتے۔ آپؒ کے وعظ کا ان پر اتنا اثر ہوتا کہ وہ نماز کے پابند ہو جاتے اور عہد کرتے کہ ہم ہمیشہ نماز گزار رہیں گے۔ اس کے بعد آپؒ دوسرے گاؤں کا رُخ کرتے۔ اس طرح آپ نو ماہ مسلسل پہاڑوں کے دامن میں آباد باشندوں کو وعظ و رشد و ہدایت اور خطبات سے نوازتے رہے۔ آپؒ نے اس دوران مسلسل روزہ رکھا۔ صرف ایک پیالی چائے (صبح و شام) پیتے تھے۔ اس سفر کے دوران مختلف زبانیں بولنے والے لوگ اور قبیلے ملے‘ جن سے حضور نے ان کی مادری زبانوں میں پوری فصاحت اور بلاغت سے دین کی تبلیغ فرمائی۔ یہ بھی کم کمالِ ولایت نہ تھا۔ نو ماہ مسلسل تبلیغ کے بعد واپس راولپنڈی شیخ برادران کے پاس تشریف لے گئے۔ اس وقت آپ کا وجودِ مبارک بظاہر لاغر نظر آتا تھا۔ جب شیخ فضل کریم کو اتنے طویل عرصے کے فاقے کا علم ہوا تو اس نے کہا کہ وہ اپنے ہاتھ سے کھانا پکا کر حضور سرکار عالی کا روزہ افطار کرائے گا۔ آپؒ نے بھی معمول سے زیادہ کھانا تناول فرمایا۔ اگلی صبح آپ فراغت کے لئے نکلے۔ فراغت کے بعد لوٹا بیت الخلا میں چھوڑ آئے۔ شیخ فضل کریم لوٹا اٹھانے گئے تو دیکھا کہ اس جگہ کوئی بول براز نہ تھا بلکہ ہلکی ہلکی خوشبو سے بیت الخلا مہک رہا تھا۔ ماشاء اللہ۔ حضور سرکارِ عالی مادر زاد ولی تھے۔ بچپن سے ہی آپ کی کرامات کا ظہور شروع ہو گیا تھا۔ آپؒ نے ارشاد فرمایا کہ ارواح کو ربّ العزت نے اپنے خاص الخاص قرب کے لئے تخلیق فرمایا ہے‘ وہ ازل سے محرمِ راز ہوتی ہیں۔ وہ روحیں از خود اپنی منزل پر پرواز کرتی ہیں۔ ان کو ظاہری راہنمائی یا راہبر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دورانِ قیامِ انبالہ حضرت فتح علی شہباز صاحبؒ دو تین مرتبہ انبالہ تشریف لے گئے اور سرکارِ عالی کو ظاہری بیعت کے لئے ترغیب دیتے رہے کیونکہ سرکار کی کرامات کا ظہور ہونا شروع ہو گیا تھا۔ کافی اصرار کے بعد سرکار نے اپنے ماموں حضرت فتح علی شہباز منڈیروی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔

Advertisements
This entry was posted in ملفوظاتِ محبوبِ ذات, محبوبِ ذات and tagged , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

اپنی رائے نیچے بنے ڈبے میں درج کر کے ہم تک پہنچائیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s