عجز و انکساری–ملفوظاتِ محبوبِ ذات

عجز و انکساری

آپ عاجزی اور انکساری کے پیکر تھے۔ آپ کے کلام میں عاجزی اور انکساری ہمیشہ نمایاں ہوتی تھی۔ اس لئے آپ سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز نے اپنا تخلص عاجز رکھا تھا۔ آپ اکثر فرماتے عجز اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ کسی کی زبان سے آپ اپنی تعریف سننا کبھی گوارہ نہ کرتے اور فرماتے تعریف کی سزاوار اللہ تعالیٰ کی ذات مقدس ہے۔ میری کیا حیثیت؟ میں بے کس و مجبور کہ اپنے جسم پر بیٹھی ہوئی مکھی بھی نہیں اڑا سکتا۔
حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز ’’ محبوبِ ذات‘‘ کے درجے پر فائز ہونے کے باوجود ہمیشہ منکسر المزاج رہے۔ کبھی گھمنڈ نہ کیا، بڑا بول نہ بولا۔ کبھی اپنی تعریف پسند نہ فرمائی۔ کوئی تعریف کرتا تو آپ منع فرماتے۔ جس شخص میں انا موجود ہو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ انسان خود کو پہچانے تاکہ رب العزت کو پہچان سکے۔ آپ ہمیشہ حدیث ِ قدسی کے حوالے سے تلقین فرماتے۔
الحدیث    من عرف نفسه فقد عرف ربه
ترجمہ۔ جس نے اپنے نفس کو پہچانا گویا اس نے اپنے رب کو پہچانا۔ آپ فرماتے اللہ کی تعریف کرو جو سب تعریفوں کا مالک ہے۔ آپ غریبوں، یتیموں اور مسکینوں سے بے حد پیار کرتے ان کی ظاہری و باطنی ہر طرح سے امداد فرماتے۔ ہمیشہ زمین پر مسند لگا کر بیٹھتے۔ آپ کے عجز و انکسار کا اظہار شاعرانہ کلام سے بھی ہوتا ہے۔

Advertisements
This entry was posted in ملفوظاتِ محبوبِ ذات, محبوبِ ذات and tagged , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

اپنی رائے نیچے بنے ڈبے میں درج کر کے ہم تک پہنچائیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s