ملفوظاتِ محبوبِ ذات–عہدِ طفولیت

عہدِ طفولیت

حضرت محبوبِ ذات قدس سرہٗ العزیز مادر زاد ولی تھے۔ بچپن ہی سے آپ کی کرامات کا ظہور شروع ہو گیا تھا۔ تبرکاً دو تین کرامات درج ہیں:۔
(1)    بچپن میں آپ برادری کے تمام گھروں کی بالائی کھا لیا کرتے تھے۔ جس روز پابندیوں کی وجہ سے ایسا نہ کرتے تو کسی کے گھر مکھن نہ نکلتا۔ اس لیے اہلِ قرابت نے پابندیاں ختم کر دیں اور مکھن نکلتا رہا۔
(2)    منڈیر شریف سے قریب تر قصبہ روڑس میں پرائمری اسکول تھا۔ لہٰذا سکول کی عمر کو پہنچنے پر اسی اسکول میں بزرگوں نے داخل کروا دیا۔ داخلے کے بعد ماسٹر صاحب نے سبق پڑھانا شروع کیا تو روائتی انداز میں کلاس سے کہا پڑھیں الف، آم۔ آپ خاموش رہے۔ ماسٹر صاحب نے دو تین بار ان الفاظ کو دھرایا۔ لیکن آپ پھر بھی خاموش رہے۔ اس پر ماسٹر صاحب نے آپ سے الف، آم پڑھنے کو کہا تو آپ نے فرمایا کہ الف آم نہیں الف اللہ ہے۔ یہ کہتے ہی زبان پر اللہ اللہ کا ورد جاری ہو گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جماعت کے تمام طلبہ اور ہندو ماسٹر بھی ذکر میں شامل ہو گئے۔ آدھ گھنٹے تک اللہ کا ذکر جاری رہا۔ سب حاضرین مدہوش ہو گئے۔ حضور پاک چپکے سے اٹھے اور گھر آ گئے۔ کئی روز بعد دوبارہ مدرسے گئے سب نے آپ کی تعظیم و تکریم کی۔ اس واقعہ کے بعد یہ عالم ہوا کہ آپ جن راہوں سے گذرتے وہاں پر موجود خورد و کلاں‘ مرد و زناں‘ جوان‘ سبھی احتراماً کھڑے ہو جاتے۔
(3)    ایک گھگو گھوڑے بیچنے والی نے آپ سرکار عالی کے کانوں میں سونے کی بالیاں دیکھ کر حسرت سے کہا کاش وہ بھی اپنی بیٹی کو ایسی بالیاں پہنا سکتی۔ یہ سنتے ہی آپ نے بالیاں اتار کر اس کے حوالے کر دیں اور اس کی تمنا پوری کر دی۔ آپ کے قلب فطرت شناس پر یہ راز فشاں تھا کہ انسانی خواہش سونے سے زیادہ قیمتی ہے۔
(4)    آپ کو جو خرچہ گھر سے ملتا وہ غریب طالب علموں میں تقسیم فرما دیتے۔ اکثر اوقات کرایہ بھی حاجت مندوں کو دے دیتے اور خود سیالکوٹ سے پیدل چل کر گھر آتے۔ روڑس سے پرائمری تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ سیالکوٹ شہر کے مشن ہائی سکول میں داخل ہو گئے۔
(5)    سرکار کے والد ماجد بچپن میں آپ کو داغ مفارقت دے گئے۔ آپ نے یتیمی کی حالت میں تقریباً آٹھ سال اپنے نانا محترم کی کفالت میں گذارے۔ نانا محترم کا چار ذوالحجہ کو وصال ہو گیا۔ ۱۰ سال کی عمر میں آپ کی والدہ محترمہ بھی رحلت فرما گئیں۔ ان کے بعد آپ کے دادا محترم سیّد حیدر علی شاہ بھی ملک عدم سدھارے۔ اس کے بعد آپ کی کفالت آپ کی دادی محترمہ‘ جو بہت بوڑھی تھیں‘ کے سپرد ہوئی۔ وہ بھی تھوڑے ہی عرصے بعد انتقال فرما گئیں۔ اس طرح حضرت محبوبِ ذات نے محبوبِ حقﷺ کی طرح اپنا بچپنا یتیمی میں گذارا کہ یتیمی حسنِ ذات بن گئی۔

Advertisements
This entry was posted in ملفوظاتِ محبوبِ ذات, محبوبِ ذات and tagged , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

اپنی رائے نیچے بنے ڈبے میں درج کر کے ہم تک پہنچائیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s